نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اردو لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یہ ‏ضعف ‏کا ‏عالم ‏ہے ‏کہ ‏تقدیر ‏کا ‏لکھا

         میں لکھنے کا عادی نہیں اور ناہی کوئی لکھاری ہوں ،لیکن کبھی کبھی جبرا لکھنا ہوتا ہے ،کلیہ کی طرف سے لکھنے کا کام ملتا ہے ،نا چاہ کر بھی محض نمبرات کے لیے  قرطاس سیاہ کرنا  ہوتا ہے ،اس سال بھی اسائمنٹ لکھنا تھا ،فلسطین کے تازہ ترین حالات پر  ہی ایک چھوٹا سا مضمون قلم بند کرنا تھا جمع کرنے کی تاریخ قریب آگئی تو  قلم اٹھایا سوچا لکھوں ۔۔۔ لیکن کیا لکھوں ؟؟۔۔۔۔فلسطین ۔۔۔۔ کوئی قصہ عشق ہو تو لکھوں ،کسی شہزادی کی داستان ہو تو لکھوں ،تحریر کے لئے چاہیے کوئی سلگتا عنوان، کوئی اختلافی موضوع، یا کوئی سنسنی خیز خبر جیسے سیلیبریٹی کا قتل، سیاسی الٹ پھیر یا کوئی ایکسیڈینٹ ۔ یا پھر تحریر کے لئے حسن و عشق چاہیے۔ ہائی پروفائلڈ محبوبہ کی رنگین زلفوں کا اسیر مجنوں، محبت میں ناکام عاشق کی دیوانگی یا یک طرفہ محبت کا دردناک انجام، غزہ کے ان بھوکے ،بے گھر ،ستائے ہوئے، مظلوموں کے بارے میں کیا لکھوں ،جن پر خود ان کے اپنے منھ نہیں کھولتے ،جن پر اقوام متحدہ ترس نہیں کھاتی ،امن کے نمائندے جن کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں!! کسی کتاب یا مضمون کا خلاصہ کرنا ہوتا تو ...

عید ‏سعید ‏پر ‏دل ‏کی ‏کیفیت

__________________نالۂ دل___________________ کاش کہ دو دل ہوتے سینے میں ایک خوشی میں ہنستا اور دوسرا روتا غم میں!! آنکھ کھلی  تو سوچا نہا کر عید کے لیے نئے جوڑے کا انتخاب کروں، اور اسے زیب تن کرکے عطر میں ملبوس ہوکر عید کی نماز پڑھوں، اور دوستوں کے ساتھ ملکر خوشیاں بٹوروں، عید ہونے کی خوشی اتنی تھی کہ فورا بستر سے اٹھکر حمام تک پہچ گیا اور چند ہی منٹوں میں خوشی کی غسل سے فراغت حاصل کر لی ،پانی کی ٹھنڈک نے شاید  دل و دماغ کو ٹھنڈا کر دیا، جس سے ذہن بیتے لمحوں اور حادثات کو ازسر نو حاشیہ خیال پر لانے کا پروسس شروع کر چکا تھا جو کے چند لمحوں کی  نیند کے سبب ذہن کے پردوں سے اوجھل ہو چکا تھا ، اور آرام دہ نیند نے کچھ گھنٹوں کے لیے جسم و جاں کو آرام بخشا تھا ،پھر کیا جیسے ہی نئےجوڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا دماغ نے فورا دل کو ایک زور کا جھٹکا دیا اور آنکھوں کے سامنے مظلوم فلسطینیوں اور غاصب و ظالم اسرائیل کے مابین ہوئے حادثات و واقعات گردش کرنے لگے  ”ان کی عید کیسی ہوگی  جو بچے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے اسرائلی ظلم وجبر  کا شکار ہوتے ہوے دیکھ رہے ہیں؟ !! اب و...

Islamic World Introduction(عالم ‏اسلام ‏ایک ‏تعارف)

عالم اسلام کا مفہوم مشہور سوری مؤرخ محمود شاکر صاحب -1932»2014-اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں :"عالم اسلام ایک جدید اصطلاح ہے ،جس کے استخدام پہ زیادہ سے زیادہ سو سال کا عرصہ ہی گزرا ہوگا؛یہ اس وقت کی بات ہے جب یورپی فوجیوں کا غلبہ ،مسلم اکثریتی علاقوں سے ختم ہونے لگاتھا،تب مغربی صلیبیوں نے اپنی فکری اور علمی قوتیں مسلم معاشرے کی تحقیق و جستجو میں لگادیں؛تاکہ مسلمانوں کی طاقت اور کمزوریوں کا پتا لگا سکیں، اور طاقت کے زور پہ قابض ہونے کے بجائے فکری طور پہ امت مسلمہ کو مفلوج اور مغلوب کر سکے،وہ اپنے مطالعہ اور دراسہ کے ذریعے اس نتیجے پہ پہچے ،کہ مسلمانوں کے مابین بھلے ہی کچھ اختلافات ہیں ،مگر یہ ایک مضبوط و مستحکم اور متحداسلامی تصور کے ساتھ جڑے ہوئے بھی ہیں ؛اس لیے انہوں نے ان ریا ستوں کو جہاں مسلمان زیادہ تر آباد تھے عالم اسلام سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ۔(العالم الإسلامي اليوم ،دارالصحوة للنشر والتوزيع،القاهره،ط،١-١٩٨٥م-ص،٤) دیگر مؤرخین اور علامہ صاحب کی رائے سے اتفاق کریں ، تو یہ اصطلاح مستشرقین کی ایجاد ہے ،جسے علمائے اسلام نےمستعار لیا ،کیوں کہ ان علاقوں کے لیے اس س...

تنقید ‏برائے ‏اسلام ‏

نقد اگر غیر جانب دارانہ ہو تو محمود اور اگر ناقد متعصب ہو تو نقد مذموم اور باعث فساد ،اج کل لوگ خاصکر مغرب میں دھر لے سے اسلام اور مسلمانوں پر نقد کر رہے ہیں ،جیسا کہ ابھی حال میں فرانسیسی صدر ماکرون نے کہا کہ اسلام بحران کا شکار ہے ۔ اسی طرح اور بھی حضرات ہیں ،جن میں سے اکثر وہ ہیں جو صرف تعصب میں  اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کر رہے ہیں ،اور یہ میں نہیں کہتا بلکہ ایک بڑے  جرمن مورخ وولفانگ بینز کا کہنا ہے :" کہ یورپ میں "تنقید برائے اسلام" کی اصطلاح استعمال کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ، ( سائنسی طور پر ایسا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں)عام طور پر مسلمان مخالف رویوں کو چھپاتے اور غیر جانبدار رہنے کی بجائے دقیانوسی تصورات کا حق ادا کرتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق ایک لبنانی سیاسی محرر رضوان سید کے واقعہ سے بھی ہوتی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب سنہ 2004میں شیراک نے حجاب کے خلاف بیان دیا جس کے بعد فرانس میں باضابطہ حجاب پر پابندی لگادی گئی ،تب ایک روز میری اور شیراک کی ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا کہ حجاب عورتیں پہنتی ہیں وہ تو اس تعلق سے شدت نہیں کر رہی ہیں ،آپ کیوں اس طرح  شدت سے پی...

میرا ‏قانون ‏کس ‏کو ‏سزا ‏دیتا ‏ہے

6دسمبر 1992 کو مسلمان جس طرح بےبسی کے شکار تھے ،اور جتنی زیادہ مسلمانوں کی عزت و حرمت پامال ہوئی تھی بالکل اسی طرح آج مسلمان شرم شار اور بے بس نظر آرہے ہیں ،انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اب ہماری عزتیں سرے عام نیلام ہونگی ،اور ہمیں  کوئی انصاف دینے والا نہیں ملے گا کیوں کہ جس گھر سے وہ  انصاف کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے کل اسی گھر نے اسے اوندھے منھ گرایا ہے  خود اپنے اعتبار سے شرما گیا ہوں میں  کل کے فیصلے سے صرف مسلمانوں کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ ،اس کی عزت نفس ،اس کا ضمیر ،اور اس کا وسواس سب کچل دیا گیا ہے ۔ اور یہ فیصلہ عدالت کے لیے بھی ایک سیاہ فیصلہ ہے کیوں کہ یہ بالکل نا انصافی  ہے ۔ سی بی آئی کو اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور ساتھ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھی چاہیے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں عرضی ڈالے کیوں کہ ہمیں آج بھی اپنی عدالتوں سے انصاف کی امید ہے ،یہ اور بات ہے کہ اب ہماری عدالتوں سے مجرمین کو سزا کے بجائے جزا ملنی شروع ہوگئی ہیں ۔ حیرت کی بات کہ جس انہدام کے لیے اتنی ریلیاں نکالی گئیں ،...

حق ‏اختلاف ‏رائے ‏پہ ‏حکومت ‏کا ‏تازہ ‏حملہ

لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی تعریف و توصیف اس  کی پرجا کرے ،نا کہ وہ ، جو خود ہی اپنی تعریف کرتا پھرے ۔ اچھا لیڈر یا عادل حکومت کبھی بھی اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اسے سن کر خود کےاندر بدلاؤ لانے کی کوشش کرتا ہے ،حکومت اگر اپنی رعایا کے ساتھ بہتر سلوک ،منصفانہ رویہ رکھتی ہے ،جس سے عوام بالکل خوشحال رہتی ہے تو پھر ایسی حکومت کسی باہری کی آواز یا اس کی تحقیقات سے خوف نہیں کھاتی ،کیوں کہ اسے پتا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی کچھ بولے تو ہماری عوام ہی ان کے لیے کافی ہوگی ۔پتا نہیں اس بار حکومت امینسٹی (Amenesty)کی آپریشن سے  اتنا خوف کیوں کھا رہی ہے  ،(واضح رہے کہ امینسٹی انٹرنیشنل یونائیٹیڈ کنگ ڈم کی غیر حکومتی آرگنائزیشن ہے جو حقوق انسانیت پہ کام کرتی ہے اور تقریبا ساٹھ سال سے بڑی دل لگی اورانہماک کے ساتھ اپنی ملینوں ورکرز کے ساتھ یہ کام انجام دے رہی ہے) گزشتہ دو برسوں سے یہ تنظیم انڈیا میں ہوئے نا انصافیوں کے خلاف ، اور حقوق انسانی کی بازیابی کے لیے آپریشن چلا رہی تھی ،مگر اس سال اسے آپریشن روک نا پڑا جس کے ذمہ دار اس نے حکومت کے بڑ...

وبائے مسموم اور قراءت بخاری ۔ 2

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔  جیسا کہ معلوم ہے جامعہ عارفیہ کے وہ طلبہ جو ازہر شریف میں ابھی زیر تعلیم ہیں وہ اس مسموم کورونا کے دفاع کے لیے گزشتہ کئی دنوں سے قراءت بخاری جیسے مجرب عمل میں مصروف ہیں جن میں سے بعض حضرات نےمکمل کر لیا ہے اور بعض ابھی بھی مصروف قراءت ہیں جو کہ ان شاءاللہ بہت جلد ہی مکمل کر لیں گے ۔ ختم بخاری کی مجلس : آج ختم بخاری کی یہ دوسری محفل تھی ،جو مولانا غلام ربانی اور ان کے رفقاء  (انجم راہی ،مولانا رئیس )کی جانب سے ختم بخاری اور ختم ”الادب المفرد “کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی ،جس میں ہمارے تمام احباب بنفس نفیس شریک رہے اور پوری محفل ابتداءا دعا و استغفار کی گونجوں میں گونجتی رہی اور انتہاءا پرزور عشائیہ سے لطف اندوز کلمات تشکر: اللہ بھلا کرے مولانا فیض صاحب ،مولانا سبحانی اور مولانا رئیس صاحبان کا کہ آپ لوگوں نے آج اشتہا خیز اور دل پذیر عشائیہ کا انتظام فرمایا ،اور ساتھ ہی تمام احباب کا شکر گزار ہوں کہ آپ تشریف لائے اور ہماری ہمت افزائی فرمایا راقم شکر گزار ہے  مفتی زین العابدین اشرفی کا کہ آپ نے ایک نیک...

وبائے مسموم اور قراءت بخاری ۔ 1

کہاں جاتا ہے کہ 1347م میں پہلی بار مصر میں طاعونی وبا آئی اور پھر عصر مملوکی ہی میں لوگ کئی بار وبا اور مختلف امراض میں مبتلا ہوگئے،جب وبا کی پریشانیاں بڑھ گئیں تو مصر میں وبا کے زمانے میں لوگ کثرت سے مسجد ازہر میں دیگر اوراد و وظائف کے ساتھ ساتھ قراءت بخاری بھی کرنے لگے۔ ابن تغری بردی اپنی کتاب ” النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة“میں  لکھتے ہیں :في أحداث الوباء العظيم عام 742 هـ أنه لما وصل إلى مصر واستفحل أمره بها، اجتمع الأمراء والعامة لقراءة صحيح البخاري في الجامع الأزهر، واستمرّت قراءة البخاري بالجامع الأزهر وغيره عدّة أيام“ 742ھ میں جب وبا مصرمیں بہت زیادہ پھیلنے لگی تو امرا اور عوام مسجد ازہر میں قراءت بخاری کے لیے جمع ہونے لگے اور کئی دنوں تک مسجد ازہر اور دیگر مساجد میں بخاری کی قراءت ہوتی رہی،قراءت بخاری کوئی نیا عمل نہیں ،بلکہ علمائے مصر و شام کا مجرب عمل رہا ہے کہ وہ شدائد وبلا میں بخاری کی قراءت کرتے تھے ،  عبد اللہ بن ابی جمرہ (675)اپنی کتاب ”جمع النهايه في بداية الخير والغايه“کے مقدمہ میں بیان کرتے ہیں   الشيخ أبو محمد بن أبي جمرة يقو...

معرض القاهره الدولي للكتاب

بات Middle East کے سب سے بڑے "کتاب میلے" کی قاہرہ کا عالمی کتاب میلہ   Middle East میں سب سے بڑا اور پورے عالم میں "فرانکفورت"کے بعد دوسرابڑاکتاب میلہ مانا جاتاہے ،جس کی شروعات تقریبا1969میں نائب رئیس مصر"ثروت عکاشہ "کی ایماء پہ ہوئی اس وقت آپ وزیر ثقافت تھے ،(جب پڑھے لکھے لوگ عہدےپہ فائز ہوتے ہیں تو کار آمد چیزیں ایجاد ہوتی ہیں ورنہ جہلا تو صرف مجسمے نصب کروانے پہ ہی فخر کرتے ہیں ) . 1971 میں جب الهيئه المصريه العامه للكتاب،کی بنیاد پڑی تو اس کتاب میلہ کی ذمہ داریاں بھی اسی کمیٹی کے سپرد کردی گئیں،جب سے یہی کمیٹی ہر سال اس کا اہتمام کر رہی ہے ،2017تک یہ میلہ مدینہ نصر (مصر)میں لگا کرتا تھا پھر جب "الهيئة الهندسية للقوات المسلحه،"گروپ نے التجمع الخامس میں 74ایکڑ پہ پھیلے ہوئےمساحت پہ ایک EIEC کے نام سے Exhibition Centre قائم کیا تب سے یہ میلہ ہر سال نصف سال کے تعلیمی اختتام پہ تقریبا بارہ روز کے لیے یہیں لگتا ہے،جس میں ملک ،بیرون ملک سے زائرین اور کتابوں کے شوقین تشریف لاتے ہیں گزشتہ سال کی رپورٹ مانیں تو تقریبا دو ملین لو...

اسکندریہ :ذاتی تعارف و تجزیہ

اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہراور اس کی سب سے بڑی بندر گاہ ہےجسے اتر سے بحر ابیض نے ,دکھن سے نہر  مریوط نے ،پورب سے خلیج ابو قیر ،اور پچھم سے سید کریر نے گھیر رکھا ہے یہ شہر  سوئز کے راستے قدرتی گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے باعث اہم صنعتی مرکز ہے،اپنےروشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث یہ بہت ہی مشہورتھا جو 7 عجائبات عالم میں شامل ہے،(جہاں آج قلعہ بنا ہوا ہے) ،اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اسکندریہ کا کتب خانہ بھی کافی شہرت کا حامل تھا، اس شہر کو 334 قبل مسیح (متنازع تاریخ) میں سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی کے نام پر آج تک "اسکندریہ" کہلاتا ہے،642ء میں جنگ کے دوران لائبریری اور دیگر مشہور عمارات تباہ ہوگئیں۔ روشن مینار 14 ویں صدی میں زلزلے سے تباہ ہوا اور 1700ء تک یہ شہر ایک چھوٹے سے قصبے کی صورت اختیار کرگیا۔  1810ء میں مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا آغاز کیا اور 1850ء تک اسکندریہ ماضی کی عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس لیے  مصر آنے کے بعد میرے شیڈیول میں اسکندریہ بھی شامل ہوگیا تھا ،تمنا تھی کہ ک...

جامعہ عارفیہ سے جامعہ ملیہ اسلامیہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تعارف 1920ء میں علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بانیین میں مولانا محمود حسن دیوبندی، محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبد المجید خواجہ اور ذاکر حسین ہیں۔ ان حضرات کا خواب ایک ایسے تعلیمی ادارہ کا قیام تھا جہاں اکثریت کے جذبے کا احترام کیا جائے اور اخلاق عالیہ کا مظاہرہ کیا جائے۔ 1925ء میں جامعہ کو علی گڑھ سے کرول باغ، نئی دہلی منتقل کیا گیا۔ 1 مارچ 1935ء کو اوکھلا میں جامعہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اوکھلا اس زمانہ میں جنوبی دہلی  کا ایک غیر رہائشی علاقہ تھا۔  نئے حرم جامعہ میں کتب خانہ، جامعہ پریس اور مکتبہ کے علاوہ تمام شعبے منتقل کردیے گئے تھے۔ اسے ایک قومی یونیورسٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا جہاں اعلیٰ، جدید اور ترقی پسند تعلیم کا انتظام کیا جائے اور ملک بھر کے تمام مذاہب کے لوگ بالخصوص مسلمان تعلیم حاصل کرسکیں۔ جامعہ کو گاندھی اور ٹیگور کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ دونوں بزرگوں کا ماننا تھا کہ جامعہ ہزاروں طالبان علوم جدیدہ کی تشنگی مٹانےکا سامان فراہم کرے گی۔ 1988ء میں جامعہ کو بھارتی پارلیمان کے جامعہ م...

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

یہ ‏ضعف ‏کا ‏عالم ‏ہے ‏کہ ‏تقدیر ‏کا ‏لکھا

         میں لکھنے کا عادی نہیں اور ناہی کوئی لکھاری ہوں ،لیکن کبھی کبھی جبرا لکھنا ہوتا ہے ،کلیہ کی طرف سے لکھنے کا کام ملتا ہے ،نا چاہ کر بھی محض نمبرات کے لیے  قرطاس سیاہ کرنا  ہوتا ہے ،اس سال بھی اسائمنٹ لکھنا تھا ،فلسطین کے تازہ ترین حالات پر  ہی ایک چھوٹا سا مضمون قلم بند کرنا تھا جمع کرنے کی تاریخ قریب آگئی تو  قلم اٹھایا سوچا لکھوں ۔۔۔ لیکن کیا لکھوں ؟؟۔۔۔۔فلسطین ۔۔۔۔ کوئی قصہ عشق ہو تو لکھوں ،کسی شہزادی کی داستان ہو تو لکھوں ،تحریر کے لئے چاہیے کوئی سلگتا عنوان، کوئی اختلافی موضوع، یا کوئی سنسنی خیز خبر جیسے سیلیبریٹی کا قتل، سیاسی الٹ پھیر یا کوئی ایکسیڈینٹ ۔ یا پھر تحریر کے لئے حسن و عشق چاہیے۔ ہائی پروفائلڈ محبوبہ کی رنگین زلفوں کا اسیر مجنوں، محبت میں ناکام عاشق کی دیوانگی یا یک طرفہ محبت کا دردناک انجام، غزہ کے ان بھوکے ،بے گھر ،ستائے ہوئے، مظلوموں کے بارے میں کیا لکھوں ،جن پر خود ان کے اپنے منھ نہیں کھولتے ،جن پر اقوام متحدہ ترس نہیں کھاتی ،امن کے نمائندے جن کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں!! کسی کتاب یا مضمون کا خلاصہ کرنا ہوتا تو ...

اسکندریہ :ذاتی تعارف و تجزیہ

اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہراور اس کی سب سے بڑی بندر گاہ ہےجسے اتر سے بحر ابیض نے ,دکھن سے نہر  مریوط نے ،پورب سے خلیج ابو قیر ،اور پچھم سے سید کریر نے گھیر رکھا ہے یہ شہر  سوئز کے راستے قدرتی گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے باعث اہم صنعتی مرکز ہے،اپنےروشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث یہ بہت ہی مشہورتھا جو 7 عجائبات عالم میں شامل ہے،(جہاں آج قلعہ بنا ہوا ہے) ،اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اسکندریہ کا کتب خانہ بھی کافی شہرت کا حامل تھا، اس شہر کو 334 قبل مسیح (متنازع تاریخ) میں سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی کے نام پر آج تک "اسکندریہ" کہلاتا ہے،642ء میں جنگ کے دوران لائبریری اور دیگر مشہور عمارات تباہ ہوگئیں۔ روشن مینار 14 ویں صدی میں زلزلے سے تباہ ہوا اور 1700ء تک یہ شہر ایک چھوٹے سے قصبے کی صورت اختیار کرگیا۔  1810ء میں مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا آغاز کیا اور 1850ء تک اسکندریہ ماضی کی عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس لیے  مصر آنے کے بعد میرے شیڈیول میں اسکندریہ بھی شامل ہوگیا تھا ،تمنا تھی کہ ک...

جامعہ عارفیہ سے جامعہ ازہر مصر

فاطمی سلطنت میں (سنہ970 ء) میں مسجد ازہر کے اندر فقط ایک مدرسے کی شکل میں ایک چھوٹے ادارے کا آغاز ہوا۔   گذشتہ ہزار سالہ اتار چڑھاؤ کے بعد آج عروج کے اس مقام کو چھو چکا ہے ،کہ اس کے بابت کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ " جامعۃ ازہر" آج دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی ہے جہاں نرسری سے لےکر پی ایچ ڈی تک کی تعلیم کا انتظام ہے  جس میں تین لاکھ سے زائد (اندرونی و بیرونی)طلبہ تقریبا  اسی( 80)کلیات میں زیر تعلیم ہیں۔ اس جامعہ کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ یہ غیر ملکی طلبہ کا کھلے دل سے استقبال کرتی ہے  اور انہیں اعلی تعلیم کے ساتھ اسکالرشپ بھی دیتی ہے۔ مدیر عام حامد سعید کے بقول: جامعہ ازہر ہی واحد یونیورسٹی ہے جہاں سو سے زائد ممالک سے طلبہ آتے ہیں اور ازہر ان کی، دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے رہنے سہنے کا بھر پور انتظام کرتا ہے۔ داخلہ کا عمل اگر آپ جامعہ ازہر میں بی اے کرنا چاہتے ہیں تو رمضان ابراہیم  ڈائرکٹر برائے امور طلبہ کے بقول آپ کو مندرجہ ذیل دستاویزات ساتھ رکھنے ہوں گے۔ ۱ ۔ معادلہ شدہ جامعہ کی شہادہ ثانویہ(فضیلت کی سند)جس پر...