نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ستمبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

میرا ‏قانون ‏کس ‏کو ‏سزا ‏دیتا ‏ہے

6دسمبر 1992 کو مسلمان جس طرح بےبسی کے شکار تھے ،اور جتنی زیادہ مسلمانوں کی عزت و حرمت پامال ہوئی تھی بالکل اسی طرح آج مسلمان شرم شار اور بے بس نظر آرہے ہیں ،انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اب ہماری عزتیں سرے عام نیلام ہونگی ،اور ہمیں  کوئی انصاف دینے والا نہیں ملے گا کیوں کہ جس گھر سے وہ  انصاف کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے کل اسی گھر نے اسے اوندھے منھ گرایا ہے  خود اپنے اعتبار سے شرما گیا ہوں میں  کل کے فیصلے سے صرف مسلمانوں کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ ،اس کی عزت نفس ،اس کا ضمیر ،اور اس کا وسواس سب کچل دیا گیا ہے ۔ اور یہ فیصلہ عدالت کے لیے بھی ایک سیاہ فیصلہ ہے کیوں کہ یہ بالکل نا انصافی  ہے ۔ سی بی آئی کو اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور ساتھ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھی چاہیے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں عرضی ڈالے کیوں کہ ہمیں آج بھی اپنی عدالتوں سے انصاف کی امید ہے ،یہ اور بات ہے کہ اب ہماری عدالتوں سے مجرمین کو سزا کے بجائے جزا ملنی شروع ہوگئی ہیں ۔ حیرت کی بات کہ جس انہدام کے لیے اتنی ریلیاں نکالی گئیں ،...

حق ‏اختلاف ‏رائے ‏پہ ‏حکومت ‏کا ‏تازہ ‏حملہ

لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی تعریف و توصیف اس  کی پرجا کرے ،نا کہ وہ ، جو خود ہی اپنی تعریف کرتا پھرے ۔ اچھا لیڈر یا عادل حکومت کبھی بھی اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اسے سن کر خود کےاندر بدلاؤ لانے کی کوشش کرتا ہے ،حکومت اگر اپنی رعایا کے ساتھ بہتر سلوک ،منصفانہ رویہ رکھتی ہے ،جس سے عوام بالکل خوشحال رہتی ہے تو پھر ایسی حکومت کسی باہری کی آواز یا اس کی تحقیقات سے خوف نہیں کھاتی ،کیوں کہ اسے پتا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی کچھ بولے تو ہماری عوام ہی ان کے لیے کافی ہوگی ۔پتا نہیں اس بار حکومت امینسٹی (Amenesty)کی آپریشن سے  اتنا خوف کیوں کھا رہی ہے  ،(واضح رہے کہ امینسٹی انٹرنیشنل یونائیٹیڈ کنگ ڈم کی غیر حکومتی آرگنائزیشن ہے جو حقوق انسانیت پہ کام کرتی ہے اور تقریبا ساٹھ سال سے بڑی دل لگی اورانہماک کے ساتھ اپنی ملینوں ورکرز کے ساتھ یہ کام انجام دے رہی ہے) گزشتہ دو برسوں سے یہ تنظیم انڈیا میں ہوئے نا انصافیوں کے خلاف ، اور حقوق انسانی کی بازیابی کے لیے آپریشن چلا رہی تھی ،مگر اس سال اسے آپریشن روک نا پڑا جس کے ذمہ دار اس نے حکومت کے بڑ...

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

یہ ‏ضعف ‏کا ‏عالم ‏ہے ‏کہ ‏تقدیر ‏کا ‏لکھا

         میں لکھنے کا عادی نہیں اور ناہی کوئی لکھاری ہوں ،لیکن کبھی کبھی جبرا لکھنا ہوتا ہے ،کلیہ کی طرف سے لکھنے کا کام ملتا ہے ،نا چاہ کر بھی محض نمبرات کے لیے  قرطاس سیاہ کرنا  ہوتا ہے ،اس سال بھی اسائمنٹ لکھنا تھا ،فلسطین کے تازہ ترین حالات پر  ہی ایک چھوٹا سا مضمون قلم بند کرنا تھا جمع کرنے کی تاریخ قریب آگئی تو  قلم اٹھایا سوچا لکھوں ۔۔۔ لیکن کیا لکھوں ؟؟۔۔۔۔فلسطین ۔۔۔۔ کوئی قصہ عشق ہو تو لکھوں ،کسی شہزادی کی داستان ہو تو لکھوں ،تحریر کے لئے چاہیے کوئی سلگتا عنوان، کوئی اختلافی موضوع، یا کوئی سنسنی خیز خبر جیسے سیلیبریٹی کا قتل، سیاسی الٹ پھیر یا کوئی ایکسیڈینٹ ۔ یا پھر تحریر کے لئے حسن و عشق چاہیے۔ ہائی پروفائلڈ محبوبہ کی رنگین زلفوں کا اسیر مجنوں، محبت میں ناکام عاشق کی دیوانگی یا یک طرفہ محبت کا دردناک انجام، غزہ کے ان بھوکے ،بے گھر ،ستائے ہوئے، مظلوموں کے بارے میں کیا لکھوں ،جن پر خود ان کے اپنے منھ نہیں کھولتے ،جن پر اقوام متحدہ ترس نہیں کھاتی ،امن کے نمائندے جن کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں!! کسی کتاب یا مضمون کا خلاصہ کرنا ہوتا تو ...

اسکندریہ :ذاتی تعارف و تجزیہ

اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہراور اس کی سب سے بڑی بندر گاہ ہےجسے اتر سے بحر ابیض نے ,دکھن سے نہر  مریوط نے ،پورب سے خلیج ابو قیر ،اور پچھم سے سید کریر نے گھیر رکھا ہے یہ شہر  سوئز کے راستے قدرتی گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے باعث اہم صنعتی مرکز ہے،اپنےروشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث یہ بہت ہی مشہورتھا جو 7 عجائبات عالم میں شامل ہے،(جہاں آج قلعہ بنا ہوا ہے) ،اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اسکندریہ کا کتب خانہ بھی کافی شہرت کا حامل تھا، اس شہر کو 334 قبل مسیح (متنازع تاریخ) میں سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی کے نام پر آج تک "اسکندریہ" کہلاتا ہے،642ء میں جنگ کے دوران لائبریری اور دیگر مشہور عمارات تباہ ہوگئیں۔ روشن مینار 14 ویں صدی میں زلزلے سے تباہ ہوا اور 1700ء تک یہ شہر ایک چھوٹے سے قصبے کی صورت اختیار کرگیا۔  1810ء میں مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا آغاز کیا اور 1850ء تک اسکندریہ ماضی کی عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس لیے  مصر آنے کے بعد میرے شیڈیول میں اسکندریہ بھی شامل ہوگیا تھا ،تمنا تھی کہ ک...

قناۃ خیریہ

پنج تن نے رات میں بیٹھے بیٹھے قناۃ خیریہ کا پروگرام بنایا اور صبح ہوتے ہوتے تین لوگوں کےاضافے سے آٹھ لوگوں کی مشترکہ جماعت بن گئی جوکھانے پینے کی ضروریات کے ساتھ قناۃ خیریہ کے سیر کو نکل چکی۔ سیر وتفریح چونکہ مختلف مقاصد کے تحت ہوا کرتی ہے اور خاص کر جہاں مختلف افراد ہوں وہاں مقاصد میں تنوع ہونا لازمی ہے لیکن اس سفر میں کشتی کی سواری ایک مشترک تفریح تھی جس کے غالبا سبھی مشتاق تھے۔ کشتی نامہ مصر کی زینت دریائے نیل بھی ہے اور نیل کی شام "کشتی کی سواری »کا استعارہ  بھی جو کافی دلچسپ اور پر لطف ہوتاہے لیکن ہر چیز کی ایک مقدار ہوتی ہے اس کے آگے پھر اچھی نہیں لگتی یہی  آج ہمارے ساتھ بھی ہوا ,ہم لوگ پورے جوش وخروش کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے اور کچھ لمحے خوب مزے لوٹے لیکن اگلے ہی لمحے اکتاہٹ کے شکار ہو گئے۔ اس اکتاہٹ کی ایک وجہ تو کشتی کا لمبا سفر تھا جو تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے پر محیط تھا اور دوسری بڑی وجہ مصری گانے جو ڈی جے کے ساتھ بجائے جارہےتھے۔ یہ گانے ہندوستانی گانوں سے بالکل مختلف, ان کے سر تال تو کم از کم ہم ہندوستانیوں کے سر سے ماورا تھے. کئی بار دل میں آی...