عالم اسلام کا مفہوم مشہور سوری مؤرخ محمود شاکر صاحب -1932»2014-اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں :"عالم اسلام ایک جدید اصطلاح ہے ،جس کے استخدام پہ زیادہ سے زیادہ سو سال کا عرصہ ہی گزرا ہوگا؛یہ اس وقت کی بات ہے جب یورپی فوجیوں کا غلبہ ،مسلم اکثریتی علاقوں سے ختم ہونے لگاتھا،تب مغربی صلیبیوں نے اپنی فکری اور علمی قوتیں مسلم معاشرے کی تحقیق و جستجو میں لگادیں؛تاکہ مسلمانوں کی طاقت اور کمزوریوں کا پتا لگا سکیں، اور طاقت کے زور پہ قابض ہونے کے بجائے فکری طور پہ امت مسلمہ کو مفلوج اور مغلوب کر سکے،وہ اپنے مطالعہ اور دراسہ کے ذریعے اس نتیجے پہ پہچے ،کہ مسلمانوں کے مابین بھلے ہی کچھ اختلافات ہیں ،مگر یہ ایک مضبوط و مستحکم اور متحداسلامی تصور کے ساتھ جڑے ہوئے بھی ہیں ؛اس لیے انہوں نے ان ریا ستوں کو جہاں مسلمان زیادہ تر آباد تھے عالم اسلام سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ۔(العالم الإسلامي اليوم ،دارالصحوة للنشر والتوزيع،القاهره،ط،١-١٩٨٥م-ص،٤) دیگر مؤرخین اور علامہ صاحب کی رائے سے اتفاق کریں ، تو یہ اصطلاح مستشرقین کی ایجاد ہے ،جسے علمائے اسلام نےمستعار لیا ،کیوں کہ ان علاقوں کے لیے اس س...
سر سید احمد خان نے 1875ء میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی بنیاد ڈالی تھی جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے- انہوں نے کہا: میں ہندوستانیوں کے اندر ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل کرنے کی قدرت ہو جائے، اگر سرکار نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرہاً ہم کو دلا دے گی۔ خدا کے فضل سے جامعہ عارفیہ سید سراواں کا معادلہ اس عظیم یونیورسٹی سے چند سال قبل ہوا۔ اس معادلہ نے مدرسہ ھٰذا کے طلبہ کے لئے کئی راستے ہموار کیے ہیں۔ دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد جامعہ عارفیہ کے طلبہ اب یونیورسٹیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ معادلے کے بعد سے اب تک تقریباً درجن بھر طلبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویٹ ہو چکے ہیں اور کئی طلبہ ابھی بھی اس میں زیر تعلیم ہیں۔ مستقبل میں اس یونیورسٹی کی جانب رخ کرنے والے طلبہ کی رہنمائی کے لئے یہ تحریر شائع کی جا رہی ہے۔ لھٰذا اس یونیورسٹی میں موجود کورس، شعبہ اور داخلہ کی ...